نئی دہلی، 5/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آدھار کارڈ کے لیے جمع کئے گئے بایومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے اتوار کو کہا کہ آدھار پر مبنی تصدیقات پوری طرح محفوظ سسٹم ہے۔اتنا ہی نہیں، پچھلے ڈھائی سالوں کے دوران آدھار نمبر سے جڑے اکاؤنٹس میں سبسڈی کی منتقلی سے سرکاری خزانے کو 49000کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔یونیک آئیڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یوآئی ڈی اے آئی) کے مطابق،ابھی تک آدھار نمبر وں کے غلط استعمال کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے، اس میں کسی بھی طرح کی چوری یا مالی نقصان کی بات سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں ادھارسے تصدیق شدہ 400کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا ہے۔اتھارٹی نے یہ بھی کہا کہ اس نے کئی رپورٹوں کو دیکھا ہے اور وہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اتھارٹی کے پاس موجود لوگوں کے نجی بایومیٹرک ڈیٹا کی حفاظت میں کوئی چوری نہیں ہوئی ہے اور یہ پوری طرح محفوظ ہے۔غورطلب ہے کہ ایک اخبار میں بایومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال کی خبر کے بارے میں اتھارٹی نے کہا کہ یہ ایک ملازم کا نتہا معاملہ ہے جو ایک بینک کے بینکنگ نمائندہ کے طور پر کام کرتا ہے اور اس نے اپنے بایومیٹرک ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی اور اسے اتھارٹی کے د اخلی سیکورٹی نظام نے پکڑ لیا اور اب آدھار ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔